Thursday, 23 February 2017

ایک حدیث شریف میں رسول الّلہ ﷺ نے فرمایا کہ جب میرا کوئ امّتی دور سے میرے اوپر درود بھیجتا ہے تو اس وقت فرشتوں کے ذریعے وہ درود مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور جب کوئ امّتی میری قبر پر آ کر درود بھیجتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ "الصلاة والسلام علیک یا رسول الّلہ" اس وقت میں خود اسکے درود و سلام کو سنتا ہوں۔ (کنزالعمال، حدیث نمبر ۲۱۶۵)

ماخوذ از بیان "درود شریف: ایک اہم عبادت" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم  
امۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَأۡتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُم‌ۖ مَّسَّتۡہُمُ ٱلۡبَأۡسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُ ۥ مَتَىٰ نَصۡرُ ٱللَّهِ‌ۗ أَلَآ إِنَّ نَصۡرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ۬ (سورہ البقرہ:۲۱۴)

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنّت میں (یونہی) داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گذرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بول اٹھے کہ "الّلہ کی مدد کب آئے گی؟" یاد رکھو! الّلہ کی مدد نزدیک ہے۔ (سورہ البقرہ:۲۱۴)

حصّہ اوّل

اس آیت سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بغیر مشقّت و محنت کے اور بغیر مصائب و آفات میں مبتلا ہوئے کوئ شخص جنّت میں نہ جائے گا، حالانکہ ارشاداتِ قرآنی اور ارشاداتِ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ بہت سے گناہ گار محض اللّہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور مغفرت سے جنّت میں داخل ہوں گے۔ ان پر کوئ مشقّت بھی نہ ہو گی۔ وجہ یہ ہے کہ مشقّت و محنت کے درجات مختلف ہیں۔ ادنیٰ درجہ نفس و شیطان سے مزاحمت کر کے یا دینِ حق کے مخالفین کے ساتھ مخالفت کر کے اپنے عقائد کا درست کرنا ہے، اور یہ ہر مومن کو حاصل ہے۔ آگے اوسط اور اعلیٰ درجات ہیں، جس درجہ کی محنت و مشقّت ہو گی اسی درجہ کا دخولِ جنّت ہو گا۔ اس طرح محنت و مشقّت سے کوئ خالی نہ رہا۔ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا: "سب سے زیادہ سخت بلائیں اور مصیبتیں انبیاء علیہم السلام کو پہنچتی ہیں، ان کے بعد جو ان کے قریب تر ہیں۔"

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیعؒ

Wednesday, 22 February 2017

ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئ بندہ حضورِ اقدس ﷺ پر درود بھیجتا ہے تو وہ درود حضورِ اقدس ﷺ کے پاس نام لے کر پہنچایا جاتا ہے کہ آپ کی امّت میں سے فلاں بن فلاں نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا یہ تحفہ بھیجا ہے۔ انسان کی اس سے بڑی کیا سعادت ہو گی کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس کا نام پہنچ جائے۔ (کنز العمال حدیث نمبر ۲۲۱۸)

ماخوذ از بیان "درود شریف: ایک اہم عبادت"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Tuesday, 21 February 2017

حضرت عبدالّلہ ابن مسعود رضی الّلہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الّلہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے ایسے ہیں جو زمین میں گھومتے پھرتے ہیں، اور جو کوئ بندہ مجھ پر سلام بھیجتا ہے وہ فرشتے اس سلام کو مجھ تک پہنچا دیتے ہیں۔ (سنن نسائ، کتاب السہو، باب السلام علی النبی ﷺ)

ماخوذ از بیان "درود شریف: ایک اہم عبادت"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَيَسۡخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ‌ۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِ‌ۗ وَٱللَّهُ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ۬ O (سورہ البقرہ:۲۱۲)

"جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لیے دنیاوی زندگی بڑی دلکش بنا دی گئ ہے، اور وہ اہلِ ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلند ہوں گے۔ اور اللّہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔" (سورہ البقرہ:۲۱۲)

اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیا کے مال و دولت اور عزّت و جاہ پر مغرور ہونے اور غریب لوگوں کا استہزاء کرنے کی حقیقت قیامت کے روز آنکھوں کے سامنے آ جائے گی۔ 

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص کسی مومن مرد یا عورت کو اس کے فقر و فاقہ کی وجہ سے ذلیل و حقیر سمجھتا ہے اللّہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو اوّلین و آخرین کے مجمع میں رسوا اور ذلیل کریں گے، اور جو شخص کسی مسلمان مرد یا عورت پر بہتان باندھتا ہے اور کوئ ایسا عیب اس کی طرف منسوب کرتا ہے جو اس میں نہیں ہے، الّلہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کو آگ کے ایک اونچے ٹیلے پہ کھڑا کریں گے جب تک کہ وہ خود اپنی تکذیب نہ کرے۔ (ذکر الحدیث القرطبی)

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیعؒ

Monday, 20 February 2017

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللّہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا کہ جو شخص مجھ پہ درود بھیجتا ہے تو جب تک وہ درود بھیجتا رہتا ہے ملائکہ اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ اب جس کا دل چاہے ملائکہ کی دعاء رحمت اپنے لیے کم کر لے یا زیادہ کر لے۔ (ابن ماجہ، ابواب اقامة الصلاة، باب الصلاة علی النبی ﷺ)
"اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔" (سورہ البقرہ:۲۰۸)

تیسرا حصّہ

اس آیت میں ان لوگوں کے لیے بڑی تنبیہ ہے جنہوں نے اسلام کو صرف مسجد اور عبادات کے ساتھ مخصوص کر رکھا ہے۔ معاملات اور معاشرت کے احکام کو گویا دین کا جزء ہی نہیں سمجھتے۔ اصطلاحی دینداروں میں یہ غفلت عام ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو مذہبی سمجھتے ہیں، بظاہر نماز روزے کے پابند بھی ہیں، اور ظاہری حلیے سے بھی دیندار لگتے ہیں، ان میں سے بھی بہت سے ایسے ہیں جو لوگوں کے حقوق، معاملات اور حقوقِ معاشرت کے احکام سے بالکل بیگانہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان احکام کو اسلام کے احکام ہی یقین نہیں کرتے۔ نہ ان کے سیکھنے کو ضروری سمجھتے ہیں اور نہ ان پہ عمل کرنے کو۔

خوب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شریعت کے احکام پانچ طرح کے ہیں۔ پہلا حصّہ ہے عقائد یعنی ان باتوں پہ ایمان لانا جن پہ یقین رکھنے کا اللّہ تعالیٰ اور اللّہ کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے مثلاً مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانا یا جنّت و دوزخ پہ یقین رکھنا۔ دوسرا حصّہ عبادات ہیں مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰة وغیرہ۔ زیادہ تر مسلمان ایمان کو ان دونوں حصّوں میں ہی منحصر سمجھتے ہیں۔ تیسرا حصّہ ہے معاملات یعنی روپے پیسے کا لین دین جس کی بنیاد ہے کسی اور کا مال ناحق اور اللّہ تعالیٰ اور رسول اللّہ ﷺ کے احکام کے خلاف نہ لینا۔ چوتھا حصّہ ہے معاشرت یعنی لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرنے اور رہنے سہنے کے احکام۔ پانچواں حصّہ ہے اخلاق یعنی باطنی اعمال کی اصلاح۔ جو شخص دین کے ان پانچوں اجزاء پر عمل کرنے کی کوشش نہ کرے اس کا ایمان مکمّل نہیں ہوتا۔

ماخوذ از معارف القرآن، تالیف مفتی محمد شفیعؒ