Thursday, 25 August 2016

حضرت عبدالّٰلہ ابنِ عبّاس رضی الّٰلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الّٰلہ ﷺ نے فرمایا:

الّٰلہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ بہت سے لوگ ان کے بارے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک صحت اور دوسرے فراغت۔

یہ حدیث "جوامع الکلم" یعنی جامع ترین کلاموں میں سے ہے۔ بزرگوں نے فرمایا کہ چند حدیثیں ایسی ہیں کہ اگر انسان صرف ان چند حدیثوں پہ عمل کر لے تو اس کی نجات کے لئے یہی کافی ہے۔ ان میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے۔

 حضرت نے اس کی تشریح میں فرمایا کہ یہ دو چیزیں یعنی صحت اور فراغت ایسی ہیں کہ جب کسی انسان کو یہ حاصل ہوتی ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ مجھے ہمیشہ حاصل رہیں گی۔ جب ا سکو نیکی کا خیال آتا ہے تو یہ سوچتا ہے کہ ابھی جلدی کیا ہے، ابھی تو ساری عمر پڑی ہے۔ ابھی عیش کر لیں، مزے کر لیں۔ جب بڑھاپا آئے گا تو پھر عبادت کر کے سارے گناہ بخشوا لیں گے۔ روز اپنی نگاہوں سے تندرستوں کو شدید بیماری میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھتا ہے، جوانوں کو قبر میں جاتے ہوئے دیکھتا ہے، پھر بھی یہی سوچتا ہے کہ یہ تو ان کے ساتھ ایسا حادثہ ہو گیا۔ میرے ساتھ نہیں ہوگا۔ میری تو ابھی بہت عمر پڑی ہے۔ لیکن جب اچانک وقت آ جاتا ہے تو ایک لمحے کی مہلت نہیں ملتی۔

ماخوذ از بیان "وقت کی قدر کریں" از مفتی آھمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Wednesday, 24 August 2016

حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک ؒ کبھی رقہ شہر جاتے تو ایک نوجوان ان سے آ کر ملا کرتا اور مسائل وغیرہ پوچھتا۔ ایک مرتبہ جب رقہ جانا ہوا تو وہ نظر نہیں آیا۔ پوچھنے پہ لوگوں نے بتایا کہ اس پہ قرض بہت ہو گیا تھا۔ جس کا اس پہ قرض تھا اس نے اسے گرفتار کروا دیا اور اب وہ جیل میں ہے۔ حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے پوچھا کہ کتنا قرضہ ہو گیا تھا اور کس کا قرض تھا؟ لوگ نے بتایا کہ دس ہزار دینار قرض تھا اور فلاں شخص کا قرض تھا۔ آپ اس شخص کی تلاش میں نکلے اور اس سے جا کر کہا کہ ہمارا ایک دوست تمہارے قرض کی وجہ سے جیل میں ہے۔ میں اس کا قرض ادا کردیتا ہوں لیکن ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ میرے جیتے جی کسی کو نہیں بتاؤ گے کہ اس کا قرض کس نے ادا کیا تھا۔ اس نے وعدہ کر لیا۔

جب وہ نوجوان رہا ہوا تو حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک سے ملنے آیا۔ پوچھنے پہ اس نے بتایا کہ میں قرض نہ دے سکنے کی وجہ سے جیل میں تھا۔ پھر الّٰلہ تعالیٰ نے غیب سے ایک فرشتہ بھیج دیا جس نے میرا قرض ادا کر دیا اور مجھے رہائ مل گئ۔ حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک نے کہا کہ بس اب الّٰلہ تعالیٰ کا اس پر شکر ادا کرو ، اور میں بھی تمہارے لئے دعائیں  کر رہا تھا کہ تمہیں رہائ مل جائے۔

وہ نوجوان بعد میں کہتے ہیں کہ جب تک عبدالّٰلہ ابنِ مبارک زندہ رہے مجھے عمر بھر پتہ نہیں چلا کہ میرا قرضہ ادا کرنے والا شخص کون تھا، اس لیے کہ جو قرض خواہ تھا اس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی زندگی میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ ان کے انتقال کے بعد مجھے پتہ چلا کہ میری رہائ کا ذریعہ بننے والے حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک ہی تھے۔

ماخوذ از بیان "وقت کی قدر کریں" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Tuesday, 23 August 2016

اپنے آپ کو پاکباز مت سمجھو

قرآن کریم میں ارشاد ہے؛

"کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں، بلکہ الّٰلہ تعالیٰ ہی کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں پاک قرار دیں"(۴:۴۹)

"تم اپنے نفس کی پاکی کے مدعی نہ بنو، الّٰلہ تعالیٰ ہی خوب جانتے ہیں کہ کون واقعی پرہیز گار و متّقی ہے. (۵۳:۳۲)

بعض لوگ شاید سوچیں کہ ہر کچھ دن بعد ایسی پوسٹ کیوں آ جاتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہےکہ اپنے کو نیک مت سمجھو، لیکن اس بات کی ایک خاص اہمیت ہے۔ الّٰلہ تعالیٰ نے کئ جگہ فرمایا ہے کہ وہ اور سب گناہ معاف کر دیں گے لیکن دو گناہ ایسے ہیں جنہیں وہ نہیں معاف کریں گے، ایک شرک اور دوسرے تکبّر۔ بظاہر اس کی یہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ باقی سب گناہوں میں تو پھر انسان کو کبھی نہ کبھی غلطی کا، گناہ کا، احساس ہوجاتا ہے لیکن تکبّر میں یہ احساس تک نہیں ہوتا۔ اگر انسان کو یہ سمجھ آ جائے کہ میں اپنے کو دوسرے سے بہتر جو سمجھ رہا ہوں یہ میری غلطی ہے تو اس میں تکبّر رہے ہی کیوں۔ عافیت اسی میں ہے کہ انسان  چاہے جتنا عبادت گزار ہو، جتنے نیک عمل کرتا ہو، بس عاجزی اختیار کرے، ہر ایک کو اپنے سے اچھا سمجھے، اور یہ سوچ رکھے کہ یہ صرف الّٰلہ تعالیٰ کو معلوم پے کہ اب بھی کس کے دل کی حالت بہتر ہے، اور کل بھی کس کا خاتمہ اچھا ہو گا۔ پھر ناز کس بات پر۔

Monday, 22 August 2016

حضرت عبدالّٰلہ ابن مبارک رحمتہ الّٰلہ علیہ ایک دفعہ حج کے لئے تشریف جا رہے تھے۔ ایک قافلہ بھی ساتھ تھا۔ راستے میں ایک جگہ پہ قافلے والوں کی ایک مرغی مر گئ تو انہوں نے وہ کوڑے کے ڈھیر پہ پھینک دی۔ حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک قافلے والوں سے ذرا پیچھے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ قافلہ جب ذرا آگے نکل گیا تو تو قریب کی بستی سے ایک لڑکی نکلی اور تیزی سے اس مردہ مرغی کو اٹھا کے اپنے گھر میں لے گئ۔ حضرت عبدالّٰلہ ابن مبارکؒ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ وہ اس لڑکی کے گھر گئے اور پوچھا کہ وہ اس طرح مردہ مرغی اٹھا کر کیوں لائ۔ جب انہوں نے بہت اصرار کیا تو اس لڑکی نے بتایا کہ میرے والد جو گھر میں واحد کمانے والے تھے ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ میری والدہ اور میں تنہا ہیں اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ ہم کئ روز سے اس حالت میں ہیں جس میں شریعت نے مردار کھانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ چنانچہ اس کوڑے کے ڈھیر پہ جو کوئ مردار پھینک دیتا ہے ہم اس کو کھا کر گزارا کر لیتے ہیں۔

یہ سن کر حضرت عبدالّٰلہ ابنِ مبارک کے دل پر بہت چوٹ لگی کہ یہ الّٰلہ کے بندے تو اس حالت میں ہیں کہ مردار کھا کر گزارا کر رہے ہیں، اور میں حج پہ جا رہا ہوں۔ انہوں نے اپنے معاون سے کہا کہ ہمارے واپس گھر جانے کے لئے تقریباً بیس دینار کی ضرورت پڑے گی، وہ رکھ لو اور باقی جتنے تقریباً دو ہزار دینار ہیں وہ سب اس لڑکی کو دے دو۔ اس سال ہم حج  نہیں کرتے۔ ان دیناروں سے اس کے گھر والوں کو جو راحت ملے گی الّٰلہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ حج سے زیادہ اجرو ثواب اس پر عطا فرما دیں گے۔

ماخوذ از بیان "وقت کی قدر کریں" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Sunday, 21 August 2016

نجات کے لئے تین کام

حضرت عقبہ بن عامر رضی الّٰلہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِاقدس ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسول الّٰلہ! نجات کا کیا طریقہ ہے؟ یعنی آخرت میں عذابِ جہنّم سے نجات ہو جائے، الّٰلہ تعالیٰ اپنی رضا مندی عطا فرما دیں، اور جنّت میں داخلہ فرما دیں۔ حضورِ اقدس ﷺ نے جواب میں تین جملے ارشاد فرمائے، جن کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔
تم اپنی زبان کو قابو میں رکھو۔  زبان بے قابو نہ ہونے پائے۔
تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو جائے۔ یعنی فضول اور بلا وجہ گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں، تا کہ باہر جو فتنے ہیں ان کے اندر مبتلا نہ ہو جاؤ۔
اگر کوئ غلطی، کوئ گناہ، کوئ خطا تم سے سرزد ہو جائے تو اس غلطی پر رو۔ رونے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے توبہ کرو، اور ا سپر ندامت کا اظہا ر کر کے استغفار کرو۔ گناہ پہ دل سے نادم ہو کے الّٰلہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کرو کہ یا الّٰلہ مجھ سے غلطی ہو گئ، مجھے معاف فرما دیں۔

ماخوذ از بیان "زبان کی حفاظت کیجئے" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

کتنے لمحات باقی رہ گئے ہیں؟

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمةالّٰلہ علیہ کے ایک استاد حضرت میاں سیّد اصغر حسین صاحب قدس سرہ بڑے اونچے درجے کے بزرگوں میں سے تھے۔ مفتی شفیع صاحبؒ ان کی خدمت میں کثرت سے جایا کرتے تھے۔ ایک دن مفتی شفیع صاحبؒ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا، دیکھو مولوی شفیع صاحب، آج ہم دونوں اردو میں بات نہیں کریں گے، عربی میں بات کریں گے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے اس پہ بڑی حیرانی ہوئ کہ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا۔ خیر حسبِ ارشاد دونوں عربی میں بات کرتے رہے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ عربی پہ اردو جیسی قدرت تو تھی نہیں۔ ضروری ضروری نپی تلی باتیں ہوئیں اور پھر بات ختم ہوگئ۔ آخر بہت پوچھنے پہ حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ ہم دونوں مل کے بیٹھتے ہیں تو بہت ادھر ادھر کی گفتگو شروع ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں بعض اوقات ہم لوگوں فضول باتوں کے اندر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر عربی میں بات کریں گے تو عربی پوری روانی کے ساتھ نہ تمہیں آتی ہے اور نہ مجھے۔ سوچ سمجھ کر بات کریں گے، اور پھر بلا ضرورت فضول کی گفتگو نہیں ہو گی۔ صرف ضروری باتیں ہوں گی۔ 

پھر حضرت میاں صاحب ؒ نے فرمایا کہ بھائ دیکھو۔ ہماری مثال اس شخص کی سی ہے جو گھر سے بہت ساری اشرفیاں لے کر سفر پہ نکلا تھا۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھا کہ اس کی بیشتر اشرفیاں ختم ہو گئیں اور کچھ ہی اشرفیاں باقی رہ گئیں۔ اب وہ ان اشرفیوں کو سنبھال سنبھال کے اور بہت زیادہ ضرورت کے موقع پہ خرچ کرتا ہے کہ کہیں وہ منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی ختم نہ ہو جائیں۔ 

پھر فرمایا کہ ہم نے اپنی اکثر عمر گزار دی اور اور یہ جو عمر کے قیمتی لمحات الّٰلہ تعالیٰ نے عطا فرمائے تھے یہ سب منزل تک پہنچنے کے لیے مال و دولت اور اشرفیاں تھیں۔ اگر ان کو صحیح طور پر استعمال کرتے تو منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا لیکن ہم نے یہ قیمتی لمحات نہ جانے کن فضول باتوں میں، مجلس آرائ میں اور محض گپ شپ میں خرچ کر دیے۔ اب پتہ نہیں کتنے لمحات رہ گئے ہیں اس لیے دل چاہتا ہے کہ ان کو بہت احتیاط کے ساتھ صرف ان کاموں اور باتوں میں خرچ کریں جن سے آگے کی منزل آسان ہو جائے۔ 

ماخوذ از بیان "زبان کی حفاظت کیجئے" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Saturday, 20 August 2016

زبان کے ذریعے جنّت کیسے حاصل کی جائے؟

فرمایا کہ الّٰلہ تعالیٰ نے انسان کو زبان ایک ایسی زبردست نعمت عطا فرمائ ہے کہ اگر وہ اس کو صحیح طریقے سے استعمال کر لے تو اسی کے ذریعے جنّت خرید سکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص تکلیف اور پریشانی میں مبتلا تھا۔ آپ نےاس کی پریشانی دور کرنے کی نیّت سے اس سے کوئ تسلّی کی بات کہہ دی یا تسلّی کا کلمہ کہہ دیا جس کے نتیجے میں اس کے دل کو کچھ ڈھارس  بندھ گئ، اس کے دل کو کچھ تسلّی ہو گئ۔  یہ ایک کلمہ کہنا انسان کے لیے عظیم اجر و ثواب کا سبب بن جاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں رسول الّٰلہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے، کہ اگر کوئ شخص ایسی عورت کے لئے تسلّی کے کلمات کہے جس کا بیٹا گم ہو گیا ہو یا مر گیا ہو، تو الّٰلہ تعالیٰ اس تسلّی دینے والے کو جنّت میں بیش بہا قیمتی جوڑے پہنائیں گے۔

اگر کوئ شخص جا رہا تھا اور اسے راستہ نہیں مل رہا تھا۔ آپ نے اس کی رہنمائ کر کے اسے صحیح راستہ بتا دیا۔ اب اسوقت انسان کو خیال بھی نہیں ہوتا کہ میں نے کوئ نیکی کا کام کیا لیکن الّٰلہ اس کے بدلے میں بے شمار اجر و ثواب عطا فرماتے ہیں۔ ایک شخص غلط طریقے سے نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے چپکے سے تنہائ میں، نرمی کے ساتھ، محبّت اور شفقت سے اس کو سمجھا دیا کہ بھائ صحیح طریقہ یہ ہے، تو اب ساری عمر وہ جتنی نمازیں ٹھیک طریقے سے پڑھے گا ان سب کا اجر و ثواب آپ کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جائے گا۔ 

اگر انسان صرف اسی ایک بات کا خیال کر لے کہ اس کی زبان سے جو بات نکلے اس سے الّلہ تعالی کی مخلوق کا فائدہ ہو، اس کو تسلّی ہو، خوشی ہو، سکون و اطمینان ہو، دکھ نہ ہو، دلآزاری نہ ہو، کسی کا دل نہ ٹوٹے، تو انشألّٰلہ یہی ایک بات اس کو جنّٰت میں لے جانے کا سبب بن جائے گی۔

ماخوذ از بیان "زبان کی حفاظت کیجئے" از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم