Saturday, 25 March 2017

ناپ تول میں کمی ۔ سولھواں اور آخری حصّہ

خلاصہ یہ ہے کہ تطفیف (کم ناپنا اور کم تولنا) کے اندر وہ تمام صورتیں داخل ہیں جس کے اندر ایک شخص اپنا حق تو پورا پورا وصول کرنے کے لئے ہر وقت تیّار رہے، لکن اپنے ذمّے دوسروں کے جو حقوق واجب ہیں ان کو ادا کرنے کی فکر نہ کرے۔ الّٰلہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے قرآن کریم میں دردناک عذاب کی وعید سنائ ہے۔

ایک حدیث شریف میں رسول الّٰلہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: "تم میں سے کوئ شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائ کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب الایمان)

جب ہم دوسرے کے ساتھ کوئ برا معاملہ کر رہے ہوں تو یہ سوچیں کہ اگر یہی معاملہ کوئ دوسرا شخص میرے ساتھ کر رہا ہوتا تو مجھے کتنا گراں اور ناگوار گزرتا، میں اس کو اپنے اوپر ظلم سمجھتا۔ تو اگر میں ایسا ہی معاملہ کسی دوسرے کے ساتھ کروں گا تو اس کو بھی اس سے ناگواری اور پریشانی ہو گی، اس پر ظلم ہو گا، اس لئےمجھے اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

ماخوذ از بیان "ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم
نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت ۔ چھٹا اور آخری حصّہ 

"اور جب تم نے عورتوں کو طلاق دے دی ہو، اور وہ اپنی عدّت کے قریب پہنچ جائیں، تو یا تو ان کو بھلائ کے ساتھ (اپنی زوجیت میں) روک رکھو، یا انہیں بھلائ کے ساتھ چھوڑ دو۔ اور انہیں ستانے کی خاطر اس لئے روک کر نہ رکھو کہ ان پر ظلم کر سکو۔۔۔" (سورہ البقرہ: ۲۳۱)

جس طرح  قرآن نے "امساک" کے ساتھ "بمعروف" کی قید لگا کر یہ ہدایت فرما دی کہ رجعت کر کے بیوی کو روکا جائے تو حسنِ سلوک کے ساتھ روکا جائے، اسی طرح "تسریح" کے ساتھ "باحسان" کی قید لگا کر یہ ہدایت دے دی کہ طلاق ایک معاملے کا فسخ ہے۔ شریف انسان کا کام یہ ہے کہ جس طرح معاملہ اور معاہدہ خوش دلی اور حسنِ سلوک کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسی طرح اگر معاہدے کو ختم کرنے کی نوبت آجائے تو اس کو بھی غصّے یا لڑائ جھگڑے کے ساتھ نہ کریں، بلکہ وہ بھی احسان و سلوک کے ساتھ کریں کہ رخصت کے وقت مطلّقہ بیوی کو کچھ تحفہ کپڑے وغیرہ کا دے کر رخصت کریں۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورہ البقرہ، از مفتی محمد شفیع ؒ
ناپ تول میں کمی ۔ پندرھواں حصّہ

ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا طرّہ امتیاز یہ تھا کہ وہ تجارت میں کبھی دھوکہ و فریب نہیں دیتے، ناپ تول میں کبھی کمی نہیں کرتے، ملاوٹ نہیں کرتے، اور امانت اور دیانت کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ حضورِ اکرم ﷺ نے دنیا کے سامنے ایسا ہی معاشرہ پیش کیا اور صحابہٴ کرام کی شکل میں ایسے ہی لوگ تیّار کئے جنہوں نے تجارت میں بڑے سے بڑے نقصان کو گوارہ کر لیا، لیکن دھوکہ اور فریب دینے کو گوارہ نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ الّٰلہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کا بول بالا کیا اور انہوں نے دنیا سے اپنی طاقت اور قوّت کا لوہا منوایا۔

آج ہمارا حال یہ ہے کہ وہ مسلمان بھی جو پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتے ہیں، دوسری عبادات کا بھی اہتمام کرتے ہیں، اور اپنے آپ کو مذہبی بھی سمجھتے ہیں، وہ بھی جب بازار میں جاتے ہیں تو گویا شریعت کے سب احکام بھول جاتے ہیں اور ایسا رویّہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا الّٰلہ تعالیٰ کے سارے احکام صرف مسجد تک کے لئے ہیں، بازار کے لئے نہیں۔

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از بیان "ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم
نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت ۔ پانچواں حصّہ 

لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اصلاحِ حال کی تمام کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں، اور تعلقِ نکاح کے مطلوبہ ثمرات حاصل ہونے کے بجائے طرفین کا ساتھ رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس ازدواجی تعلّق کا ختم کر دینا ہی طرفین کے لئے راحت اور سلامتی کی راہ ہو جاتی ہے۔ اس لئے شریعتِ اسلام نے یہ بھی نہیں کیا کہ رشتہٴ ازدواج ہر حال میں ناقابلِ فسق ہی رہے، بلکہ طلاق اور فسخِ نکاح کا قانون بنایا۔ طلاق کا براہِ راست اختیار تو مرد کو دیا، لیکن اس کے ساتھ عورت کو بھی بالکل اس حق سے محروم نہیں رکھا کہ وہ شوہر کے ظلم و ستم سہنے ہی پر مجبور ہو جائے۔ اس کو یہ حق دیا کہ وہ حاکمِ شرعی کی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کر کے اور شکایات کا ثبوت دے کر نکاح فسخ کرا سکے۔

پھر الّٰلہ تعالیٰ نے مرد کو طلاق کا آزادانہ اختیار تو دے دیا، مگر اوّل تو یہ کہہ دیا کہ اس اختیار کا استعمال کرنا الّٰلہ کے نزدیک بہت مبغوض اور مکروہ ہے، صرف مجبوری کی حالت میں اجازت ہے۔ حدیث میں ارشادِ نبوی ہے:

ترجمہ: "حلال چیزوں میں سب سے زیادہ مبغوض اور مکروہ الّٰلہ کے نزدیک طلاق ہے۔"

دوسری پابندی یہ لگائ کہ غصّے کی حالت میں، یا کسی وقتی اور ہنگامی ناگواری میں اس اختیار کو استعمال نہ کریں۔

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورہ البقرہ، از مفتی محمد شفیع ؒ

Friday, 24 March 2017

ناپ تول میں کمی ۔ چودھواں حصّہ

اسی طرح ساری زندگی میں بیوی کا ایک ہی مالی حق شوہر کے ذمّے ہوتا ہے، وہ ہے مہر۔ اور بہت سے شوہر وہ بھی ادا نہیں کرتے۔ ساری زندگی تو مہر ادا کیا نہیں، اب مرنے کا وقت قریب آیا تو بسترِ مرگ پہ پڑے ہیں۔ اس وقت بیوی سے کہتے ہیں کہ مہر معاف کر دو۔ اب اس وقت بیچاری کیا کہے، کہ میں معاف نہیں کرتی؟ چنانچہ اس کو معاف کرنا پڑتا ہے۔ ساری عمر تو اس سے حقوق طلب کرتے رہے، اور اس کا ایک مالی حق بھی ادا نہ کیا۔ مالی معاملات میں ایسی معافی جو دل کی خوشی سے نہ ہو وہ قابلِ اعتبار بھی نہیں ہوتی۔

اسی طرح نان نفقہ کے اندر شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کو اتنا نفقہ دیا جائے کہ وہ آزادی اور اطمینان کے ساتھ گزارہ کر سکے۔ اگر اس میں کمی کرے گا تو یہ بھی کم ناپنے اور کم تولنے کے اندر شامل ہے۔

خلاصہ ساری بات کا یہ ہے کہ جس کسی کا کوئ حق دوسرے کے ذمّے واجب ہو وہ اس کو پورا ادا کرے، اس میں کمی نہ کرے۔ ورنہ اس عذاب کا مستحق ہو گا جس کی وعید الّٰلہ نے اس آیت (جو پہلے حصّے میں درج ہے) میں بیان فرمائ ہے۔

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از بیان "ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم

Thursday, 23 March 2017

نکاح و طلاق کی شرعی حیثیت ۔ چوتھا حصّہ 

زوجین کے ہر معاملے اور ہر حال کے لئے جو ہدایتیں قرآن و سنّت میں مذکور ہیں ان سب کا حاصل یہی ہے کہ یہ رشتہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا چلا جائے، ٹوٹنے نہ پائے۔ ناموافقت کی صورت میں پہلے افہام و تفہیم کی، اور پھر زجر و تنبیہ کی ہدایتیں دی گئیں۔ اور اگر بات بڑھ جائے اور اس سے بھی کام نہ چلے تو خاندان ہی کے چند افراد کو حکم اور ثالث بنا کر معاملہ طے کرنے کی تعلیم دی۔ آیت حَكَمً۬ا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمً۬ا مِّنۡ أَهۡلِهَآ (سورہٴ النساء: ۳۵) میں خاندان ہی کے افراد کو ثالث بنانے کا ارشاد کس قدر حکیمانہ ہے، کہ اگر معاملہ خاندان سے باہر گیا تو بات بڑھ جانے اور دلوں میں دوری پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔ 

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از معارف القرآن، تفسیرِ سورہ البقرہ، از مفتی محمد شفیع ؒ

Wednesday, 22 March 2017

ناپ تول میں کمی ۔ تیرہواں حصّہ

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

رسول الّٰلہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"خیار کم خیار کم لنساء ھم" (ترمذی، کتاب الرضاع)

"تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہو۔"

ایک دوسری حدیث میں حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"استوصو بالنساء خیراً" (صحیح بخاری، کتاب النکاح)

"عورتوں کے حق میں بھلائ کرنے کی نصیحت کو قبول کر لو"
یعنی ان کے ساتھ بھلائ کا معاملہ کرو۔

الّٰلہ اور الّٰلہ کے رسول تو خواتین کے حقوق کی ادائیگی کی اتنی تاکید فرما رہے ہیں، لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنی عورتوں کے پورے حقوق ادا کرنے کو تیّار نہیں۔ یہ سب کم ناپنے اور کم تولنے کے اندر داخل ہے، اور شرعاً حرام ہے۔

جاری ہے۔۔۔

ماخوذ از بیان "ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی"، از مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم