Tuesday, 25 July 2017

سورہٴ آلِ عمران: ١٤ - ١٧

سورہٴ آلِ عمران: ۱۵۔ دوسرا حصّہ

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

حدیث شریف میں ہے کہ جب سب اہلِ جنّت جنّت پہنچ کر مسرور و مطمئن ہو چکیں گے، اور کوئ تمنّا نہ رہے گی جو پوری نہ کر دی گئ ہو، تو اس وقت حقِ تعالیٰ خود ان اہلِ جنّت کو خطاب فرمائیں گے کہ اب تم راضی اور مطمئن ہو، کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں؟ وہ عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار! آپ نے اتنی نعمتیں عطا فرما دی ہیں کہ اس کے بعد اور کسی چیز کی کیا ضرورت رہ سکتی ہے؟ حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب میں تم کو ان سب نعمتوں سے بالاتر ایک اور نعمت دیتا ہوں، وہ یہ کہ تم سب کو میری رضا اور قرب دائمی طور پر حاصل ہے، اب ناراضی کا کوئ خطرہ نہیں، اس لیے نعمائے جنّت کے سلب ہو جانے کا یا کم ہو جانے کا بھی خطرہ نہیں۔

جاری ہے۔۔۔

Monday, 24 July 2017

سورہٴ آلِ عمران: ۱۵۔ پہلا حصّہ

قُلۡ اَؤُنَبِّئُكُمۡ بِخَيۡرٍ مِّنۡ ذٰ لِكُمۡ‌ؕ لِلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا وَاَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّرِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ بَصِيۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ‌ۚ‏۔

ترجمہ: "کہہ دو! کیا میں تمہیں وہ چیزیں بتاؤں جو ان سب سے کہیں بہتر ہیں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ان کے ربّ کے پاس وہ باغات ہیںجن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور پاکیزہ بیویاں ہیں، اور الّٰلہ کی طرف سے خوشنودی ہے۔ اور تمام بندوں کو الّٰلہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔"

تفسیر: اس آیت میں پچھلی آیت کے مضمون کی مزید توضیح بیان کی گئ ہے۔ اہلِ جنّت کے لیے قرآن کریم میں یہ وعدہ بھی ہے کہ "وَفِيۡهَا مَا تَشۡتَهِيۡهِ الۡاَنۡفُسُ" (٤٣: ٧١) یعنی "ان کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔" اس آیت میں ان چند نعمتوں کا ذکر ہے جو ہر جنّتی کو ملیں گی اور ان کے بعد ایک سب سے بڑی نعمت کا ذکر کیا گیا جس کا عام طور پر انسان کو تصوّر بھی نہیں ہوتا، اور وہ الّٰلہ تعالیٰ کی دائمی رضا اور خوشنودی ہے جس کے بعد ناراضی کا خطرہ نہیں رہتا۔ 

جاری ہے۔۔۔

Sunday, 23 July 2017

سورہٴ آل عمران: ۱٤- پانچواں اور آخری حصّہ

قرآن کریم میں ایسے ہی لوگوں کے متعلّق ارشاد ہے:

فَلَا تُعۡجِبۡكَ اَمۡوَالُهُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُهُمۡ‌ؕ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ بِهَا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَتَزۡهَقَ اَنۡفُسُهُمۡ وَهُمۡ كٰفِرُوۡنَ۔ (۹: ۵۵)

"آپ ان کافروں کے مال اور اولاد سے متعجّب نہ ہوں کیونکہ ان نافرمانوں کو مال، اولاد دینے سے کچھ ان کا بھلا نہیں ہوا، بلکہ یہ اموال و اولاد آخرت میں تو ان کے لیے عذاب بنیں گے ہی، دنیا میں بھی رات دن کی فکروں اور مشاغل کے باعث عذاب ہی بن جاتے ہیں۔"

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مال و اولاد اپنی ذات میں بری چیزیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الّٰلہ تعالی نے انسان کو جو دنیاوی نعمتیں عطا فرمائ ہیں، شریعت کے مطابق اور اعتدال کے ساتھ ان کو جمع کرنا اور خرچ کرنا دنیا و آخرت کی فلاح ہے، لیکن ناجائز ذرائع سے ان کو جمع کرنا، الّٰلہ تعالی کی نافرمانیوں میں اس کو خرچ کرنا، یا جائز طریقوں میں  بھی اس قدر غلو اور انہماک ہو جانا کہ جس کے سبب انسان کی توجّہ فرائض و واجبات سے ہٹ جائے، باعثِ ہلاکت ہے۔

مولانا روم ؒ نے اس کی مثال مثنوی میں یوں بیان فرمائ ہے:

آب اندر زیرِ کشتی پستی است
آب در کشتی ہلاکِ کشتی است

یعنی دنیا کا سازوسامان پانی کے مانند ہے اور انسان کا دل کشتی کے مانند ہے۔ جب تک پانی کشتی کے نیچے اور اس کے آس پاس موجود رہے گا تو کشتی کے لیے مفید و معین ہے اور اس کے مقصدِ وجود کو پورا کرنے والا ہے۔ لیکن اگر وہی پانی کشتی کے اندر داخل ہو جائے تو اس کی بربادی اور ہلاکت کا سامان ہو جاتا ہے۔

ختم شد

ماخوذ از معارف القرآن، از مفتی محمد شفیع رحمتہ الّٰلہ علیہ

Saturday, 22 July 2017

سورہٴ آلِ عمران: ۱٤ - چوتھا حصّہ

تیسری حکمت، اور وہی یہاں سب سے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان چیزوں کی محبّت  طبعی طور پہ انسان کے دل میں پیدا کر کے اس کا امتحان لیا جائے کہ کون سا انسان ان چیزوں کی محبّت میں مبتلا ہو کے آخرت کو بھلا بیٹھتا ہے اور صرف ان ہی کو اصل مقصود اور ساری تگ و دو کا حاصلِ اصلی سمجھ بیٹھتا ہے، اور کون ہے جو ان چیزوں کی اصل حقیقت اور ان کے فانی اور ناپائیدار ہونے کو سمجھتا ہے، اور اس لیے ان کی بقدرِ ضرورت فکر اور حاصل کرنے کی کوشش تو کرتا ہےلیکن ساتھ ہی ساتھ ان کو آخرت کی بہتری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ خود اس تزئین کی یہی حکمت بتلائ گئ ہے۔ 

اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلاً۔ (۱۸: ۷)


"ہم نے بنایا جو زمین پر ہیں زمین کی زینت، تا کہ ہم لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے۔"


جس نے صرف ان دنیاوی نعمتوں کو ہی مقصودِ اصلی سمجھا اس کے لیے یہ دنیاوی نعمتیں حیاتِ آخرت کی بربادی اور دائمی عذاب کا سبب بن گئیں، اور جس نے ان کی اصلیت کو سمجھا اور ان کو صحیح طریقے سے استعمال کیا اس نے دنیا میں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھایا اور انشاٴ الّٰلہ یہی نعمتیں آخرت میں بھی اس کی کامیابی کا سبب بنیں گی۔

جاری ہے۔۔۔

Friday, 21 July 2017

سورہٴ آلِ عمران: ۱٤ - تیسرا حصّہ

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

دوسری حکمت یہ ہے کہ اگر انسان کے دل میں کچھ احساسات ہی نہ ہوتے، اگر اس کے دل میں دنیاوی نعمتوں کی کوئ محبّت، کوئ قدر، کوئ رغبت ہی نہ ہوتی، تو پھر اس کو جنّت کی نعمتوں کی طرف کیا کشش ہوتی اور کیا رغبت ہوتی۔ پھر اس کو کیا ضرورت ہوتی کہ وہ نیک اعمال میں محنت کر کے جنّت اور اس کی نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا، اور برے اعمال چھوڑنے کی ہمّت کر کے دوزخ سے بچنے کی کوشش کرتا۔ 

جاری ہے۔۔۔

Thursday, 20 July 2017

سورہٴ آلِ عمران: ۱٤ - دوسرا حصّہ

گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔

اس آیت میں دنیا کی چند اہم مرغوب چیزوں کا نام لے کر بتلایا گیا ہے کہ لوگوں کی نظر میں ان کی محبّت خوش نما بنا دی گئ ہے، اس لئے بہت سے لوگ ان کی محبّت میں مبتلا ہو کے آخرت کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے عورت کو اور اس کے بعد اولاد کو بیان کیا گیا ہے، کیونکہ دنیا میں انسان جتنی چیزوں کے حاصل کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کا ایک بہت بڑا سبب گھر والوں اور اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ ہر جائز و ناجائز ذریعے سے اتنا مال جمع کرنے کی فکر میں پڑے رہتے ہیں جس کے بارے میں انہیں خود بھی پتہ ہوتا ہے کہ اتنا مال وہ عمر بھر کبھی بھی خرچ نہیں کر سکتے، ان سے پوچھا جائے تو وہ بھی یہی جواز دیتے ہیں کہ وہ یہ مال اپنی اولاد اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے جمع کر رہے ہیں۔ اس کےبعد سونے چاندی، مویشیوں، اور کھیتی کا ذکر ہے جو کہ دوسرے درجے میں بہت سے لوگوں کے دلوں میں بسے ہوئے ہوتے ہیں۔

مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ الّٰلہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی محبّت طبعی طور پہ انسانوں کے دلوں میں ڈال دی ہے جس میں ہزاروں حکمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک حکمت تو یہ ہے کہ اگر انسان طبعی طور پر ان چیزوں کی طرف مائل اور ان سے محبّت کرنے والا نہ ہوتا تو دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ اگر انسان کی دل میں پیسہ کمانے کی اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی خواہشات کو پورا کرنے کی خواہش نہ ہوتی تو وہ صبح سویرے اٹھ کر گھر سے مشقّت کرنے کے لیے کیوں نکلتا؟ مزدور مزدوری کیوں کرتا، مالدار اس مزدور کو اپنا کام نکلوانے کے لیے کیوں مزدوری دیتا، تاجر دکان کیوں کھولتا، اور خریدار پیسے لے کر دکان سے اپنی ضرورت اور خواہشات کا سامان خریدنے کے لیے کیوں جاتا؟ غور کیا جائے تو انہیں مرغوبات کی محبّت کی وجہ سے دنیا کا یہ تمدّنی نظام قائم ہے۔

جاری ہے۔۔۔